عبدالستار محمد، کراچی ٹول پلازہ پر ٹرانزٹ روٹ ویکسی نیٹر، سندھ

عبدالستار محمد، کراچی ٹول پلازہ پر ٹرانزٹ روٹ ویکسی نیٹر، سندھ

Share

abdul-sattar-mohammed-transit-route-vaccinator-in-karachi-toll-plaza-sindh

 

"میں سفر کے ذریعے سندھ میں داخل ہونے والے اور یہاں سے باہر جانے والے بچوں کو ہمہ وقت ویکسی نیٹ کرنے والی ایک ٹیم میں کام کرتا ہوں۔ ہم ہر اس بس کو چیک کرتے ہیں جو اس ٹول پلازہ پر آتی ہیں اور یہاں سے گزرتی ہیں۔ ہم بسوں پر سوار ہو جاتے ہیں، بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہیں اور ان کی انگلیوں پر نشان لگا دیتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہو سکے کہ انہیں پولیو کے خلاف ویکسی نیٹ کر دیا گیا ہے۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ سفر کرنے والے بچوں کو پولیو ویکسین دی جائے بصورت دیگر کسی اور جگہ سے پولیو درآمد کر لیں گے۔ ہم نے سن رکھا ہے کہ پولیو کے زیادہ تر کیسز سندھ سے نہیں ہیں بلکہ شمال سے نقل مکانی کرنے والی آبادیوں کے ساتھ یہاں پہنچ گئے تھے۔ کراچی آنے والے بچوں کو پولیو ویکسین دینے کا یہ مطلب یہ ہے کہ پولیو کی درآمد کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ ویکسین ہمارے بچوں کی صحت مند پرورش میں مدد کرتی ہے اور بہت کارآمد ہوتی ہے۔ اگر وہ معذور ہو جائیں تو ان کی ذہنی و جسمانی نشوونماء نہیں ہو پائے گی اور وہ کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے اور اس طرح وہ ایک معاشی بوجھ بن کر رہ جائیں گے۔