فرح دیبا، پشاور میں لیڈی ہیلتھ ورکر، خیبر پختون خواہ

فرح دیبا، پشاور میں لیڈی ہیلتھ ورکر، خیبر پختون خواہ

Share

 

"مجھے اب پولیو کے قطرے پلانے کےلئے گھر گھر جاتے ہوئے 16 سال ہو گئے ہیں۔ کئی مواقع پر مجھے دھمکیاں ملیں جب کہ میرے خاوند نے بھی مجھے سنگین نتائج سےخبردار کیا جس کے نتیجے میں میرے گھر والے مجھے پولیو کے خاتمے کے لئے کام کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ تاہم، میں اس مقصد کے ساتھ پر عزم ہوں اور رہوں گی۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ پولیو پروگرام میں میرا کردار بہت اہم ہے کیوں کہ اگر فیلڈ ورکر بچوں کو ویکسی نیٹ کرنے کے لئے گھر گھر نہیں جائیں گے تو یہ مرض پاکستان سے ختم نہیں ہو سکے گا۔ کسی نہ کسی کو تو یہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور میں یہ کام کر کے لطف اندوز ہوتی ہوں۔ پولیو بچوں کو اپاہج بنا دیتا ہے اور میں یہ کہنے میں فخر محسوس کرتی ہوں کہ میری مسلسل سخت محنت کی بدولت اب کئی برسوں سے میرے علاقے میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔"