پوچھے جانے والے سوالات - Page 2

پوچھے جانے والے سوالات

Share

کیا پولیو کا کوئی علاج ہے؟

نہیں، پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے۔ پولیو کو صرف حفاظتی قطروں کے ساتھ ہی روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے محفوظ اور موثر ویکسین موجود ہے – منہ کے ذریعے پلائے جانے والے پولیو کے قطرے (OPV)۔ یعنی پولیو ویکیسن بچوں کو پولیو کے خلاف تحفظ دینے کے لئے ضروری ہے۔ کئی مرتبہ پلانے سے، یہ بچے کو عمر بھر کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔

.B        پولیو کے خاتمے کے لئے عالمی جنگ کے بارے میں:

 

پولیو پاکستان میں واپس کیوں آ گیا؟

پاکستان کبھی بھی پولیو سے پاک نہیں رہا، تاہم 2005 میں کیسز کی تعداد بہت ہی کم (28) تھی اور اس وقت سے اب تک یہ تعداد ہر سال بڑھتی رہی ہے اور 2014 میں زیادہ سے زیادہ (306) تک پہنچ گئی۔ جب کہ 2015 میں ابھی تک 38 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

 

کیا پولیو صرف پاکستان میں ہے؟

نہیں۔ پولیو پوری دنیا میں صرف دو ممالک (پاکستان اور افغانستان)کے چند حصوں میں ابھی تک موجود ہے، لیکن دنیا سے تقریباً اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ 1988 میں پولیو کے عالمی سطح پر خاتمے کا پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ اس وقت سے اب تک، بڑی سطح پر حفاظتی قطروں کی مہموں کے طفیل، دنیا بھر میں پولیو کے کیسز 99 فی صد تک کم ہو چکے ہیں۔ پولیو کی تاریخ دیکھیں تو تقریباً 20 برس قبل، صرف ایکدن میں 1000 بچے پولیو کی وجہ سے مفلوج ہوجاتے تھے۔ 2012 میں، پولیو کے عالمی سطح پر خاتمے کے پروگرام کے طفیل،یہ کیسز کم ہو کر پورے سال میں صرف 223 بچوں تک محدود رہ گئے تھے۔ یہ وہ موقع تھا جب ہم مکمل خاتمے کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے۔

 

پاکستان میں پولیو کیوں پھیل رہا ہے؟

پولیو اس وقت تک پھیلتا رہے گا جب تک ہر جگہ سے اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ بچوں کو ہر جگہ قطرے پلائے جائیں، تاکہ جب وائرس ان کے علاقے میں پھیلے تو وہ اس سے محفوظ رہیں۔ ایک مرتبہ جب وائرس کسی علاقے میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے، تو یہ ان بچوں کو باآسانی متاثر کر سکتا ہے جنہوں نے پولیو ویکسین کے قطرے نہیں پیئے ہوتے۔

.C        قومی پولیو مہموں (NIDs) کے بارے میں:

 

پاکستان کے بچوں میں پولیو کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے؟

حکومت پاکستان پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کے لئے ”قومی مہم برائے انسداد پولیو“(NIDs) کا انعقاد کررہی ہے۔ یونیسف، عالمی ادارہ صحت، روٹری، ریڈ کراس اور ہلال احمر اور انسانی ہمدردی رکھنے والے اور سول سوسائٹی کے دیگر گروپوں سمیت بہت سے غیرملکی اور مقامی ادارے ان مہموں کی منصوبہ بندی اوران پر عمل درآمد کے لئے مدد کر رہے ہیں۔

ان بچوں تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جو سیکورٹی خدشات، گھر والوں کے انکار یا دیگر وجوہات کی بنا پر ماضی میں قطرے پینے سے محروم رہ گئے تھے۔ ایسے بچوں میں پولیو کی بیماری ہونے کے سب سے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

قومی پولیو مہم کیا ہے ؟ (NIDs)

قومی پولیو مہم (NIDs) کا انعقاد عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے اہم ستونوں میں سے ایک ایسا ستون ہے جہاں تین مختص دنوں کے اندر اندر پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو کی ویکسین پلائی جاتی ہے۔ ویکسی نیٹرز پولیو کے خلاف کمیونٹی کے اندر تمام بچوں کو قطرے پلانے کے لئے گھر گھر جاتے ہیں۔ NIDs کے دوران یہ بات نہایت اہم ہے کہ والدین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان دنوں میں ہر بچہ ویکسین لے رہا ہے۔

 

ہمیں کتنی مدت تک یہ مہمیں جاری رکھنا ہوں گی؟

یہ مہمیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک پاکستان اور دنیا سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

 

ہر بچے تک نہیں پہنچیں تو کیا ہو گا؟ NIDs اگر یہ

اگر تمام NIDs میں ہم ہر بچے کو پولیو کے قطرے نہ پلائیں، تو پھر پولیو زیادہ رفتار سے پھیلے گا، زیادہ بچوں کو متاثر کرے گا اور زیادہ بچوں کو معذور بنا دے گا۔

 

کیا بچے کو پولیو مہموں اور حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول کے دوران پولیو ویکسین کے قطرے پینے چاہیئں؟

جی ہاں۔ پولیوویکسین (OPV) محفوظ اور موثرہے اور ہر اضافی خوراک کا مطلب یہ ہے کہ بچے کو پولیو کے خلاف اضافی تحفظ مل رہا ہے۔ پولیو کے خلاف مکمل تحفظ حاصل کرنے کے لئے OPV کی بہت سے خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی بچہ پہلے ہییہ ویکسین لے چکا ہے، تو بھی قومییا مخصوص علاقوں کی(NIDs/SNIDs) مہموں کے دوران دی جانے والی خوراکیں پولیو کے خلاف قیمتی اضافی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔