پولیو کے بارے میں | پوچھے جانے والے سوالات

پولیو کے بارے میں | پوچھے جانے والے سوالات

Share

پولیو کیا ہے؟

پولیو مائلائٹس (پولیو) ایک وبائی (تیزی سے پھیلنے والا) مرض ہے جو پولیو وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے، اور ٹانگوں اور جسم کے دوسرے اعضاءکے پٹھوں میں کمزوری کی وجہ بن سکتا ہے یا چند صورتوں میںمحض چند گھنٹوں میں موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

 

پولیو کیسے منتقل ہوتا ہے؟

پولیو وائرس کسی متاثرہ فرد کے پاخانے سے آلودہ ہوجانے والے پانییا خوراک میں موجود ہوتا ہے اور منہ کے ذریعے صحت مندافراد کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ وائرس کی تعداد جسم میں جا کر کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور متاثرہ فرد کے جسم سے ایسی جگہوں پرخارج ہوتا ہے جہاں سے بہ آسانی کسی دوسرے انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔

 

پولیو کی علامات کیا ہیں؟

پولیو کی ابتدائی علامات یہ ہیں:

.i          بخار

.ii         تھکاوٹ

.iii        سردرد

.iv        متلی

.v         گردن میں اکٹراؤ

.vi        اعضاءمیں درد

.vii       جسمانی اعضاء، زیادہ ترٹانگوں میں اچانک کمزوری / فالج کا حملہ ہونا، جو زیادہ تر غیر متناسب اور مستقل ہوتا ہے۔

 

کس کو پولیو کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ ہے؟

گو کہ ہر شخص کے لئے یہ خطرہ موجود ہے، لیکن پولیو زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے ایسے بچوں کو متاثر کرتا ہے جنہیں پولیو سے بچاؤکے قطرے نہ پلائے گئے ہوں۔

 

پولیو کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟

پولیو کے اثرات یہ ہیں:

.i          پولیو سے متاثر ہونے والے ہر 200 افراد میں سے ایک ناقابل علاج فالج (عموماً ٹانگوں میں) کا شکار ہوجاتا ہے۔

.ii         فا لج کا شکار ہونےوالوں میں سے 5 فی صد سے 10 فی صد وائرس کی وجہ سے اپنے سانس کے پٹھوں کی حرکت بند ہوجانے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔

            یا

.iii        پولیو ٹانگوں اور بازوؤں کو مفلوج کرنے کی وجہ بنتا ہے جس کا علاج ممکن نہیں ہے اور یہ بچوں کو زندگی بھر کے لئے معذور بنا دیتا ہے۔ کچھ مریضوں میں جب وائرس سانس لینے کے عمل کو مفلوج کر دے تو پولیو موت کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

 


کیا پولیو کا کوئی علاج ہے؟

نہیں، پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے۔ پولیو کو صرف حفاظتی قطروں کے ساتھ ہی روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے محفوظ اور موثر ویکسین موجود ہے – منہ کے ذریعے پلائے جانے والے پولیو کے قطرے (OPV)۔ یعنی پولیو ویکیسن بچوں کو پولیو کے خلاف تحفظ دینے کے لئے ضروری ہے۔ کئی مرتبہ پلانے سے، یہ بچے کو عمر بھر کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔

.B        پولیو کے خاتمے کے لئے عالمی جنگ کے بارے میں:

 

پولیو پاکستان میں واپس کیوں آ گیا؟

پاکستان کبھی بھی پولیو سے پاک نہیں رہا، تاہم 2005 میں کیسز کی تعداد بہت ہی کم (28) تھی اور اس وقت سے اب تک یہ تعداد ہر سال بڑھتی رہی ہے اور 2014 میں زیادہ سے زیادہ (306) تک پہنچ گئی۔ جب کہ 2015 میں ابھی تک 38 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

 

کیا پولیو صرف پاکستان میں ہے؟

نہیں۔ پولیو پوری دنیا میں صرف دو ممالک (پاکستان اور افغانستان)کے چند حصوں میں ابھی تک موجود ہے، لیکن دنیا سے تقریباً اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ 1988 میں پولیو کے عالمی سطح پر خاتمے کا پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ اس وقت سے اب تک، بڑی سطح پر حفاظتی قطروں کی مہموں کے طفیل، دنیا بھر میں پولیو کے کیسز 99 فی صد تک کم ہو چکے ہیں۔ پولیو کی تاریخ دیکھیں تو تقریباً 20 برس قبل، صرف ایکدن میں 1000 بچے پولیو کی وجہ سے مفلوج ہوجاتے تھے۔ 2012 میں، پولیو کے عالمی سطح پر خاتمے کے پروگرام کے طفیل،یہ کیسز کم ہو کر پورے سال میں صرف 223 بچوں تک محدود رہ گئے تھے۔ یہ وہ موقع تھا جب ہم مکمل خاتمے کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے۔

 

پاکستان میں پولیو کیوں پھیل رہا ہے؟

پولیو اس وقت تک پھیلتا رہے گا جب تک ہر جگہ سے اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ بچوں کو ہر جگہ قطرے پلائے جائیں، تاکہ جب وائرس ان کے علاقے میں پھیلے تو وہ اس سے محفوظ رہیں۔ ایک مرتبہ جب وائرس کسی علاقے میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے، تو یہ ان بچوں کو باآسانی متاثر کر سکتا ہے جنہوں نے پولیو ویکسین کے قطرے نہیں پیئے ہوتے۔

.C        قومی پولیو مہموں (NIDs) کے بارے میں:

 

پاکستان کے بچوں میں پولیو کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے؟

حکومت پاکستان پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کے لئے ”قومی مہم برائے انسداد پولیو“(NIDs) کا انعقاد کررہی ہے۔ یونیسف، عالمی ادارہ صحت، روٹری، ریڈ کراس اور ہلال احمر اور انسانی ہمدردی رکھنے والے اور سول سوسائٹی کے دیگر گروپوں سمیت بہت سے غیرملکی اور مقامی ادارے ان مہموں کی منصوبہ بندی اوران پر عمل درآمد کے لئے مدد کر رہے ہیں۔

ان بچوں تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جو سیکورٹی خدشات، گھر والوں کے انکار یا دیگر وجوہات کی بنا پر ماضی میں قطرے پینے سے محروم رہ گئے تھے۔ ایسے بچوں میں پولیو کی بیماری ہونے کے سب سے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

قومی پولیو مہم کیا ہے ؟ (NIDs)

قومی پولیو مہم (NIDs) کا انعقاد عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے اہم ستونوں میں سے ایک ایسا ستون ہے جہاں تین مختص دنوں کے اندر اندر پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو کی ویکسین پلائی جاتی ہے۔ ویکسی نیٹرز پولیو کے خلاف کمیونٹی کے اندر تمام بچوں کو قطرے پلانے کے لئے گھر گھر جاتے ہیں۔ NIDs کے دوران یہ بات نہایت اہم ہے کہ والدین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان دنوں میں ہر بچہ ویکسین لے رہا ہے۔

 

ہمیں کتنی مدت تک یہ مہمیں جاری رکھنا ہوں گی؟

یہ مہمیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک پاکستان اور دنیا سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

 

ہر بچے تک نہیں پہنچیں تو کیا ہو گا؟ NIDs اگر یہ

اگر تمام NIDs میں ہم ہر بچے کو پولیو کے قطرے نہ پلائیں، تو پھر پولیو زیادہ رفتار سے پھیلے گا، زیادہ بچوں کو متاثر کرے گا اور زیادہ بچوں کو معذور بنا دے گا۔

 

کیا بچے کو پولیو مہموں اور حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول کے دوران پولیو ویکسین کے قطرے پینے چاہیئں؟

جی ہاں۔ پولیوویکسین (OPV) محفوظ اور موثرہے اور ہر اضافی خوراک کا مطلب یہ ہے کہ بچے کو پولیو کے خلاف اضافی تحفظ مل رہا ہے۔ پولیو کے خلاف مکمل تحفظ حاصل کرنے کے لئے OPV کی بہت سے خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی بچہ پہلے ہییہ ویکسین لے چکا ہے، تو بھی قومییا مخصوص علاقوں کی(NIDs/SNIDs) مہموں کے دوران دی جانے والی خوراکیں پولیو کے خلاف قیمتی اضافی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

 


سرویلنس) اس بیماری کا کھوج لگانے میں مددگار ہوتا ہے؟ AFPs) کیا اچانک شدید فالج کی نگرانی کا نظام

اچانک شدید فالج (AFP) کی نگرانی کا نظام پولیو کے خاتمے کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ پاکستان اور دنیا بھر میں مرض کی نگرانی کا نظام ہے۔ اگر کسی بچے میں ٹانگ، بازو، یا جسم کے کسی حصے میں اچانک کمزوری کی علامات ظاہر ہو جائیں، تو محکمہ صحت کے حکام کو فوری طور پر مطلع کیا جاتا ہے تاکہ مقررہ وقت کے اندر اندر بچے کے پاخانے کا نمونہ لیا جا سکے اور یہ تجزیہ کیا جا سکے کہ پاخانے میں پولیو کا وائرس تو موجود نہیں۔

 

ویکسین کی بہت سی خوراکیں پینے کے بعد بھی کچھ بچے پولیو کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں؟

پولیو وائرس کے خلاف بچے میں قوت مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت کا انحصار بشمول دوسرے امور، اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ اس کے ارد گرد کا ماحول کیسا ہے۔ اچھے حالات یعنی صفائی ستھرائی اور صحت کے بہترین نظام کی موجودگی میں، ایک بچے کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لئے OPV کی کم از کم تین خوراکیں درکار ہوتی ہیں۔ گرم اور مرطوب آب و ہوا والے ممالک یا ایسے ترقی پذیر ممالک جہاں بچوں میں غذائی کمی اور دستوں کی بیماری عام ہو، صفائی ستھرائی کا نظام اچھا نہ ہو اور حفظان صحت کی سہولیات بڑی سطح پر میسر نہ ہوں، وہاں بچوں میں پولیو کے خلاف مضبوط قوت مدافعت کے حصول کے لئے OPV کی بہت سی خوراکوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

بہت سے بچے جو ویکسین کی کئی خوراکیں لینے کے بعد بھی پولیو کا شکار ہو جاتے ہیں،یہ وہ بچے ہوتے ہیں جنہوں نے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول کے تحت پلائی جانے والی خوراکیں نہیں لی ہوتیںیا پھر کبھی ویکسین کی خوراک لی ہی نہیں ہوتییا پھر ناکافی خوراکیں لی ہوتی ہیں۔

D.        پولیو ویکسین (OPV) کے بارے میں چند اہم نکات:

بچوں کو منہ کے ذریعے پلائی جانے والی ویکسین

پولیو ویکسین اس بیماری کے خلاف واحد تحفظ ہے۔ پولیو فالج لاحق کرنے والا ایک مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ یہ ضروری ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو ویکسین پلا کر پولیو کے خلاف تحفظ فراہم کیا جائے۔

 

کیا پولیو ویکسین میں کوئی مضر اثرات بھی ہوتے ہیں؟

پولیو ویکسین تمام ویکسینز میں سے محفوظ ترین ہے۔ اسے بیمار اور نوزائیدہ بچوں کو بھی پلایا جا سکتا ہے۔ یہ ویکسین دنیا بھر میں بچوں کو پولیو سے تحفظ دینے کےلئے استعمال کی جارہی ہے، اور اس کے ذریعے کم از کم 8 ملین بچوں کو مستقل طور پر معذور ہونے سے بچایا گیا ہے۔

 

او-پی-وی ٹیکے کے ذریعے دی جانے والی ویکسین — ہرگز کسی خطرے کا باعث نہیں ہوتی اور بہت سے ممالک میں استعمال کی جاتی ہے ۔ ہمارے بچوں کو آھی-پی-وی کیوں دی جاتی ہے؟

IPVبچوں کو پولیو سے اچھا تحفظ دیتی ہے۔ تاہم، صرف IPV پولیو کے خاتمے کے لئے وائرس کے پھیلاؤکو نہیں روکتی۔ اسی لئے بہت سے ممالک،IPV کے ساتھ ساتھ OPV کا استعمال جاری رکھتے ہیں۔

 

کیوں استعمال کرتے ہیں؟ OPV کیوں استعمال کرتے ہیں؟ پھر عرب ممالک IPV کیایہ درست ہے کہ اسرائیل میں صرف

اسرائیل ان ممالک میں سے ایک ہے جو حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں IPV استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، 2013 میں، ماحول میں پولیو وائرس پائے جانے کے بعد، اس وائرس کے پھیلاؤکو روکنے اور بچوں کو مفلوج ہونے سے بچانے کے لئے، اسرائیل نے ویکسی نیشن کی مہموں میں OPV استعمال کی۔

 

محفوظ اور حلال ہے؟ OPV کیا

OPVمحفوظ ہے اور دنیا بھر کے اسلامی قائدین – الاظہر یونیورسٹی کے عظیم شیخ تنتاوی، سعودی عربیہ کے مستند مفتی اوراسلامی مشاورتی گروپ، قومی اسلامی مشاورتی گروپ اور دیگر معروف اسلامی اداروں سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد اسلامی علماءنے اس کے حلال ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔

 

کی متعد خوراکیں پلانا ایک محفوظ عمل ہے؟ OPVکیا بچوں کو

جی ہاں، بچوں کو OPV کی متعدد خوراکیں پلانا ایک محفوظ عمل ہے۔ ویکسین کی تیاری میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ مکمل تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے اسے متعدد بار پلایا جائے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ماحول ویکسین کی افادیت کے لئے سازگار نہیں ہے، بچے کو مکمل تحفظ کی فراہمی کے لئے پولیو ویکسین کی کئی خوراکیں پلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ویکسین تمام بچوں کے لئے محفوظ ہے۔ ہر اضافی خوراک پولیو کے خلاف بچے کی قوت مدافعت کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

 


کی کتنی خوراکیں پلانے کی ضرورت ہے؟ OPV بچے کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لئے

بچے کو پولیو سے بچانے کے لئے OPV متعدد بار پلوانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بات کا انحصار کہ بچے کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لئے کتنی خوراکیں درکار ہیں، بچے کی اپنی صحت، جسم میں کسی قسم کی غذائی کمی کے ہونے یا نہ ہونے کے علاوہ اس بات پربھی ہے کہ مزید کتنے دیگر وائرس ایسے ہیں جن کے خطرے سے بچہ دوچار ہے۔ جب تک کہ بچہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوجاتا اسے پولیو لاحق ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی اہمیت پر زور دیتی ہے کہ ہر ویکسی نیشن مہم کے دوران تمام بچوں کو قطرے پلائے جائیں۔ ہر وہ بچہ جسے قطرے نہیں پلائے گئے وہ پولیو وائرس کی افزائش اور بعد ازاں پھیلاؤکی وجہ بن سکتا ہے۔

 

بیمار بچوں اور نوزائیدہ بچوں کے لئے محفوظ ہے؟ OPV کیا

جی ہاں،OPV بیمار بچوں کو دینے کے لئے محفوظ ہے۔ درحقیقتیہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ مہموں کے دوران بیمار بچوں اور نوزائیدہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں کیوں کہ ان کی قوت مدافعت کی سطح دیگر بچوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔

ماؤں اور دیکھ بھال کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ یہ بات یاد رکھیں کہ پولیو ویکسین کے قطرے (OPV) بچپن کی ان بیماریوں کا علاج نہیں ہیں جو پولیو ویکسی نیشن سے قبل بچے کو لاحق تھیں۔ چنانچہ، اگر کوئی بچہ پولیو ویکسین لینے سے پہلے بیمار تھا، تو ماں یا دیکھ بھال کرنے والے کو مناسب طبی دیکھ بھال کے لئے بچے کو کسی ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیئے۔

 

 

متعدد خوراکوں کے لئے پیغامات

پیغام 1:

عام طور پربخار بھی دوا کی محض ایک خوراک سے ٹھیک نہیں ہوتا، لہٰذا آپ اپنے بچے کو پولیو جیسے خطرناک اور ناقابل علاج مرض ( جو آپ کے بچے کو زندگی بھر کے لئے معذور کر سکتا ہے یایہاں تک کہ اس بچے / بچی کی جان بھی لے سکتا ہے) سے محض ایک خوراک سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ پولیو کے خلاف مکمل تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ آپ پولیو کی ہر مہم میں بچے کو قطرے پلوائیں۔ آپ کا بچہ جتنی زیادہ خوراکیں لے گا، اتنا ہی زیادہ پولیو وائرس کے خلاف قوت مدافعت حاصل کرے گا ۔

 

پیغام 2:

پولیو بچے کے جسم پر حملہ آور ہوتا ہے اور اس کو عمر بھر کے لئے معذور بنا دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کی جان بھی لے لیتا ہے۔ اس مرض کا کوئی علاج موجود نہیں! تاہم آپ کے بچے کو اس بدترین دشمن سے محفوظ رکھنے کے لئے پولیو ویکسین کے قطرے موجود ہیں۔ پولیو کے قطرے کسی دیوار کی اینٹوں کی طرح ہوتے ہیں، اگر آپ اپنے بچے اور دشمن (بیماری) کے درمیان ایک مضبوط دیوار کھڑی کرنے کے خواہش مند ہیں، تو آپ کو زیادہ اینٹیں درکار ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ کارکنان صحت ہر مرتبہ آپ کے گھر آتے ہیںاور آپ کے بچوں کو پولیو کے خلاف ویکسی نیٹ کرتے ہیں۔ آپ کا بچہ جتنی زیادہ خوراکیں حاصل کرے گا، بچے اور اس بیماری کے درمیانیہ حائل دیوار اتنی ہی زیادہ محفوظ ہوگی۔

 

پیغام 3:

آپ اور آپ کا بچہ / بچے ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں گندے پانی میں پولیو وائرس پایا گیا تھا۔ ایسیصورت میں آپ کے بچے پولیو وائرس کا آسانی سے شکار بن سکتے ہیں، جو زندگی بھر کی معذوری اور یہاں تک کہ موت کی وجہ بن سکتی ہے۔ اس خطرناک اور ناقابل علاج مرض سے اپنے بچے / بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے، آپ کو ہر مرتبہ جب بھی کارکنان صحت آپ کے گھر تشریف لائیں، اپنے بچے / بچوں کو ویکسی نیٹ کروانا چاہیئے۔ آپ کا بچہ / بچی جتنی زیادہ خوراکیں حاصل کرے گا / گی، آپ کے ارد گرد گردش کرنے والے پولیو وائرس سے بچانے والی حفاظتی ڈھال اتنی ہی زیادہ مضبوط ہو گی۔

 

 

مددگار پیغامات جو درج بالا پیغامات کے ساتھ مل کر استعمال ہوں گے:

پیغام 1:

پولیو وائرس ایک طاقتور اور خطرناک وائرس ہے۔ کسی بھی خطرناک مرض کی طرح، اسے دوا کے بار بار استعمال کے ذریعے شکست دینے کی ضرورت ہے۔ پولیو کے قطروں کی متعدد خوراکیں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ مزید برآں، یہ آپ کے بچے کو ہر اضافی خوراک کے ساتھ اس خطرناک اور ناقابل علاج مرض کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

 

پیغام 2:

پولیو ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے اور یہاں تک کہ اگر یہ بار بار مختصر وقفوں کے ساتھ لی جائے تب بھی اس کے کوئی خطرناک یا مضر اثرات نہیں ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی جیسے تمام مسلمان ممالک پولیو کا صفایا کرنے کے لئے اس ویکسین کو استعمال کرتے ہیں۔ سعودی عرب، حج اورعمرے کی ادائیگی کے لئے سفر کرنے والے تمام مسلمانوں سے اب پولیو ویکسی نیشن کے سرٹیفکیٹیا تصدیقی دستاویزات کا مطالبہ کرتا ہے۔