اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے

Share

اسلام آباد(18فروری2020) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دورہ پاکستان کے دوران کنڈرگارٹن اسکول لاہور کا دورہ کیا۔ پولیو مہم کے دوسرے دن اسکول کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس موقع پر کہا کہ’’ پولیو کا شمار ان چند بیماریوں میں ہوتا ہے جسے ہم آئندہ چند سالوں سے دنیا سے ختم کرسکتے ہیں، اس کا خاتمہ اقوام متحدہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ پولیو کا خاتمہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے، میری تمام سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور ہر مکتبہ فکر سے اپیل ہے کہ وہ پولیو کے خاتمے میں حکومت پاکستان اور عالمی برادری کا بھرپور ساتھ دیں‘‘۔

اپنے دورہ لاہور کے دوران وہ پولیو ورکرز سے ملے اور پروگرام کیلئے ان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ جاری پولیو مہم میں 2 لاکھ 65 ہزار پولیو ورکرز ملک بھر میں ہر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطروں کو یقینی بنارہے ہیں۔ ان میں 62 فیصد پولیو ورکرز خواتین ہیں جو والدین اور دوسرے لوگوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کیلئے آمادہ کرتے ہیں۔ رواں پولیو مہم کے دوران 39 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جارہے ہیں۔

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کنڈر گارٹن اسکول میں معزز مہمان کو خوش آمدید کہا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے سیکرٹری جنرل کو پاکستان میں پولیو کے سلسلے میں ہونے والی کارکردگی اور چیلنجوں سے آگاہ کیا اور وائرس کے خاتمے کیلئے حکمت عملی کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ کی کوششوں کو سراہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’’ حکومت پاکستان اقوام متحدہ کی پولیو کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے پر شکر گزار ہیں۔ ہم مل کر پاکستان سے پولیو کا خاتمہ کرسکتے ہیں‘‘۔

سال2019 میں پولیو وائرس نے سر اٹھایا اور 2018 میں 12 کیسز کے مقابلے میں پولیو کے 144 کیسز رپورٹ ہوئے۔ پاکستان پولیو پروگرام نے پولیو کے خاتمے کیلئے موثر حکمت عملی مرتب کی ہے۔ عالمی برادری کے تعاون سے حکومت پاکستان بہت جلد پولیو پر قابو پائے گی اور پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنادیں گے۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔