حکومت جاپان کے تعاون سے پولیو لیبارٹری میں مزید بہتری لائی گئی ہے 3.3ملین ڈالر کی امداد سے جدید مشینری فراہم کردی گئی

حکومت جاپان کے تعاون سے پولیو لیبارٹری میں مزید بہتری لائی گئی ہے 3.3ملین ڈالر کی امداد سے جدید مشینری فراہم کردی گئی

Share

اسلام آباد (21فروری2020) قومی ادارہ صحت میں قائم پاکستان ریجنل ریفرنس پولیو لیبارٹری میں حکومت جاپان کی جانب سے 3.3 ملین ڈالر کی امداد سے مزید بہتری لائی گئی ہے۔ لیبارٹری میں بہتری سے پولیو وائرس کے تدارک اور نگرانی میں بہتری آئے گی۔ مذکورہ لیبارٹری موجودہ وقت میں 30 ہزار پولیو ٹیسٹ اور 950 ماحولیاتی نمونوں کا جائزہ لیتی ہے جن میں نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان سے بھی ٹیسٹ کیلئے نمونے لائے جاتے ہیں۔

لیبارٹری کیلئے جاپان سے ملنے والی امداد میں مختلف اقسام کی جدید مشینری شامل ہیں۔ پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر پلیتھا ماہیپالہ نے کہا کہ پاکستان میں قائم پولیو لیبارٹری دنیا کی سب سے بڑی اور جدید لیبارٹری ہے جس میں جدید طریقوں سے وائرس کی نگرانی کی جاتی ہے۔

قومی ادارہ صحت میں لیبارٹری کیلئے دی گئی مشینری کی تقریب میں وفاقی ادارہ صحت ،حکومت جاپان، عالمی ادارہ صحت اور جائیکا(جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی) کے نمائندگان نے شرکت کی ۔

تقریب سے وفاقی سیکرٹری صحت ڈاکٹر اللہ بخش مالک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ حکومتِ جاپان نے پاکستان کی پولیو کے خاتمے کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے پولیو لیبارٹری میں مزید بہتری کیلئے امداد دی ہے۔ جاپان کی جانب سے دی والی امداد سے ریجنل ریفرنس لیبارٹری بروقت وائرس کی نگرانی کرسکے گی۔ پاکستان میں وائرس بچوں کیلئے انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرگیا ہے جس کیلئے یہ امداد وقت کی ضرورت ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جائیکا کے پریزیڈنٹ ڈاکٹر کیٹوکا ژی نی چی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ مذکورہ امداد ریجنل ریفرنس لیبارٹری میں پولیو کی بہتری کیلئے استعمال ہوگی۔ ہم پاکستان سے پولیو کے خاتمے کیلئے گزشتہ 25 سالوں سے تعاون کررہے ہیں۔ گزشتہ 25 سالوں میں پاکستان پولیو پروگرام اہم موڑ پر ہے تاہم جائیکا حکومت پاکستان سے پولیو کے خاتمے میں اپنا بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔

پاکستان میں تعینات جاپان کے سفیر متسودا کنینوری نے کہا کہ ’’حکومتِ جاپان پاکستان سے پولیو مٹانے کیلئے بھرپور تعاون جاری رکھے گی‘‘۔ 1996 سے اب تک حکومتِ جاپان پولیو کے خاتمے کیلئے 229 ملین ڈالر کی امداد دے چکی ہے۔ انہوں نے ریجنل ریفرنس لیبارٹری کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس لیبارٹری میں نہ صرف پاکستان بلکہ ہمسایہ ملک افغانستان کے نمونے بھی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

قومی ادارہ صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل عامر اکرام نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں کے تعاون سے پولیو وائرس پر قابو پایا گیا ہے جس میں حکومتِ جاپان کا تعاون قابل تحسین ہے۔

2019 میں بدقسمتی سے وائرس مزید پھیلا۔ 2018 کے مقابلے میں 2019 میں 144 پولیو کیسز سامنے آئے جبکہ رواں سال پولیو کے 17 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان انسداد پولیو پروگرام نے وائرس کے خاتمے اورپولیو کیسز میں کمی لانے کیلئے موثر حکمت عملی پر کام کیا جس میں ایک اقدام پولیو وائرس کی نگرانی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔