مخصوص اضلاع میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے

مخصوص اضلاع میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے

Share

اسلام آباد ( 30جولائی)2020 -7 لاکھ 22 ہزار 500 بچوں کو 20 سے 28 جولائی تک ہونے والی انسداد پولیو مہم میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ یہ پولیو مہم کورونا وائرس کے باعث چار ماہ بعد چھوٹے پیمانے پر چلائی گئی۔ اس مہم میں جنوبی وزیرستان، کراچی کے بعض علاقے، کوئٹہ، اٹک اورفیصل آباد کے مخصوص علاقوں میں پولیو ورکرز نے گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔ مخصوص اضلاع میں مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کیا گیا۔ پولیو ورکرز نے اس دوران کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے آگاہی بھی فراہم کی۔ لوگوں میں صابن اور ماسک بھی تقسیم کیے گئے اور والدین اور بچوں کو بتایا گیا کہ کیسے کورونا وائرس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ کورونا وائرس سے بچنے کیلئے پولیو ورکرز کو خصوصی طور پر تربیت دی گئی کہ کس طرح سماجی فاصلے کو رکھ کر بہتر طریقے سے کورونا وائرس سے بچا جاسکتا ہے۔ پولیو ورکرز کو ماسک، ہینڈ سینیٹائزر اور تھرما میٹرز فراہم کیے گئے تھے۔ کوآرڈینیٹر نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ’’ پولیو پروگرام نے سخت محنت اور لگن سے اس مشکل گھڑی میں پولیو مہم کو کامیاب بنایا۔ پولیو ورکرز اور عوام کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی حکمت عملی کے تحت پولیو مہم چلائی گئی۔ ہم نے مہم میں سماجی فاصلے کا خیال رکھا اور ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال ممکن بنایا تاکہ کورونا وائرس کے خطرات سے بچا جاسکے‘‘۔ ڈاکٹر رانا صفدر نے مزید کہا کہ’’پولیو ورکرز کی کورونا وبا کے دوران کوششیں قابل تحسین ہیں جن کی سخت محنت سے مطلوبہ ہدف حاصل کیا گیا۔ امید ہے کہ والدین آئندہ بھی ہونے والی پولیو مہمات میں پولیو ورکرز کا ساتھ دے کر انہیں خوش آمدید کہیں گے اور اس طرح پولیو سے چھٹکارا حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔‘‘

پاکستان پولیو پروگرام اگست اور ستمبر میں بڑے پیمانے پر پولیو مہم کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور پھر اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں قومی سطح پر پولیو مہمات چلانے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ بچوں کو صحت مراکز میں حفاظتی ٹیکہ جات کورس کروائے جائیں گے۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

 مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں:

ذوالفقار علی باباخیل

سینئر میڈیا منیجر پاکستان پولیو پروگرام

0345-9165937