ستمبر(21) سے شروع ہونیوالی قومی انسداد پولیو مہم میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں، ماہرین امراضِ اطفال

ستمبر(21) سے شروع ہونیوالی قومی انسداد پولیو مہم میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں، ماہرین امراضِ اطفال

Share

اسلام آباد ( 18 ستمبر 2020) 

معروف ماہرین امراض اطفال نے پاکستان سے پولیو کے خاتمے کیلئے حکومتِ پاکستان کی بھرپور حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن پولیو مہم اور حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں بھرپور ساتھ دیں گے۔ انہوں نے یہ بات قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں کہی۔ اس اجلاس کا مقصد ملک میں پولیو کی موجودہ صورتحال اور درپیش چیلنجز پر بات کرنا تھی اور والدین کو ویکسین کی افادیت سے آگاہ کرنا تھا۔ اجلاس کی صدارت کوآرڈینیٹر قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے کی۔ اجلاس میں پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر سینئر ماہرینِ امراض اطفال کے علاوہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال احمد میمن رکن نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ برائے انسداد پولیو بھی اجلاس میں شریک تھے۔ 

بیان کے مطابق ڈاکٹر رانا صفدرنے ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے سینئر پاکستانی ماہرینِ اطفال سے درخواست کی کہ پولیو کے خاتمے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ نئی نسل کو عمر بھر کی معذوری سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے ماہرین اطفال کا والدین کو اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ  کے قطرے پلانے کی افادیت کے بارے میں ان کے کردار کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ماہرین اطفال کا والدین کو مطمئن کرنے کیلئے بہت بڑا کردار ہے۔ ماہرینِ اطفال کے کردار سے پولیو ویکسین کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا جس سے آنے والی نسلوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچایا جاسکے گا۔ ماہرینِ اطفال نے پولیو مہم کو مزید موثر اور کامیاب بنانے کیلئے آگاہی مہم پر زور دیا تاکہ مہم میں سو فیصد نتائج حاصل کیے جاسکیں۔

نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے رکن پروفیسر ڈاکٹر اقبال احمد میمن نے پاکستان پولیو پروگرام کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کے ہوتے ہوئے قومی انسدادِ پولیو مہم کے لیے کیے گئے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ امید ہے کہ 21 ستمبر سے شروع ہونے والی قومی انسداد پولیو مہم میں سو فیصد نتائج حاصل کیے جاسکیں گے۔

قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر سے ڈاکٹر شفیق رحمان نے پولیو سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں ڈاکٹر غلام رسول بوریرو، صدر پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سندھ ڈاکٹر سلیم پریانی، صدر پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کراچی ڈاکٹر اشرف نظامی، صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق، صدر پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن پنجاب ڈاکٹر باور شاہ اور پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔

بیان کے مطابق پاکستان پولیو پروگرام کورونا وبا کے باعث ملتوی ہونے کے بعد سے 21 ستمبر کو قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز کررہا ہے جس میں 4 کروڑ سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ رواں سال وائرس پر قابو پانے کیلئے دوسری مہمات بھی چلائی جائیں گی۔ ان مہمات سے بہت جلد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کو پولیو کے موذی مرض سے پاک کردیا جائے گا۔

نوٹ برائے ایڈیٹر: 

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

 مذید معلومات کے لیے رابطہ کریں۔ 

ذوالفقار علی باباخیل

سینئر میڈیا منیجر پاکستان پولیو پروگرام

 03459165937