پولیو کا عالمی دن، حکومت کا پولیو کے خاتمے کا عزم 26 اکتوبر سے 128 اضلاع میں 30 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کیلئے پولیو مہم چلائی جائے گی

پولیو کا عالمی دن، حکومت کا پولیو کے خاتمے کا عزم 26 اکتوبر سے 128 اضلاع میں 30 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کیلئے پولیو مہم چلائی جائے گی

Share

اسلام آباد ( 23اکتوبر 2020)

آج پولیو کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ حکومت پاکستان نے پولیو کے عالمی دن کے موقع پر ایک بار بھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کو پولیو سے پاک بنانے کیلئے بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔

ہر سال 24 اکتوبر کو پولیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ رواں سال پولیو کے عالمی دن کا موضوع ’’ پولیو کے خلاف جیت عالمی صحت کی جیت

‘‘ A win against polio is a win for global health ہے جس کا مقصد پچھلے 30 سالوں سے پولیو کے خاتمے کیلئے کی جانے والی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ افریقہ کے پولیو سے پاک ہونے کے بعد افغانستان اور پاکستان دنیا میں دو ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس باقی ہے۔ پولیو کا عالمی دن منانے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ جب تک پولیو وائرس دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود ہو تو دنیا میں پولیو وائرس کا خطرہ موجود رہے گا۔

وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے پولیو کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ‘‘حکومت پاکستان ملک کو پولیو سے پاک بنانے کیلئےبھرپور جدوجہد کررہی ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ 5 سال سے کم عمر کے بچے پولیو سے بچاؤ کے قطرے ہر مہم میں پلوائے جائیں۔ پولیو کے عالمی دن کے موقع پر میں تمام والدین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ فرنٹ لائن ورکرز کو خوش آمدید کہیں اور اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر اور عالمی برادری کے تعاون سے بہت جلد اس موذی مرض سے چھٹکارا حاصل کرکے اپنے بچوں کا محفوظ مستقبل یقینی بنادیں گے‘‘۔

قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 26 اکتوبر سے یکم نومبر تک خصوصی انسداد پولیو مہم کا آغاز ہورہا ہے جس میں ملک بھر کے 128 اضلاع میں 30 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے 33 اضلاع، بلوچستان 33، سندھ 41، گلگت بلتستان 8، آزاد جموں و کشمیر کے 10 اضلاع اور خیبرپختونخوا کے ایک ضلع میں انسداد پولیو مہم ہوگی۔ مہم کے دوران 2 لاکھ 10 ہزار فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر انسداد پولیو مہم میں حصہ لیں گے۔ ویکسینیٹر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے جس طرح اس سے قبل جولائی، اگست اور ستمبر میں ہونے والی مہمات کے دوران کیا گیا۔

قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ’’ جب تک ہم پاکستان سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں کردیتے اس وقت تک بچوں پر معذوری کا خطرہ منڈلاتا رہے گا۔ مشکلات کے باوجود ہمارے فرنٹ لائن ورکرز اصل ہیروز ہیں، آج پولیو کے عالمی دن کے موقع پر ہم فرنٹ لائن ورکرز کی بھرپور کوششوں اور جدوجہد کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر صفدر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’’دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں اور حکومتِ پاکستان ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے بھرپور کوششیں کررہی ہے۔ اب والدین اور تمام مکتبہ فکر کا قومی فریضہ بنتا ہے کہ وہ گھر گھر جانے والے پولیو ورکرز کو خوش آمدید کہیں اور اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائیں تاکہ ہمیشہ کیلئے اس موذی مرض سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے‘‘۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

 مذید معلومات کے لیے رابطہ کریں

ذوالفقار علی باباخیل

سینئر میڈیا منیجر پاکستان پولیو پروگرام

03459165937