اسلامک ایڈوائزری گروپ کے سالانہ اجلاس میں پولیو کے خاتمے کیلئےحکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہا

اسلامک ایڈوائزری گروپ کے سالانہ اجلاس میں پولیو کے خاتمے کیلئےحکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہا

Share

اسلام آباد(8 دسمبر 2020) اسلامک ایڈوائزری گروپ نے پولیو کے خاتمے کیلئے کی جانے والی حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان اور افغانستان سے پولیو کے خاتمے کیلئے کی جانے والی کوششوں میں بھرپور تعاون کیا جائے گا۔

ساتویں سالانہ اسلامک ایڈوائزری گروپ کے اجلاس میں مذہبی رہنماؤں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پولیو کے خاتمے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور والدین کو اس بات کی تاکید کریں کہ وہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ اور دوسری بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین ضرور دیں۔ اجلاس جدہ میں او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کوآرڈینیٹر قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا حکومت پاکستان ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے مزید بھی بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران کامیاب پولیو مہمات کا انعقاد پاکستان پولیو پروگرام کی بڑی کامیابی ہے۔ اس سال جولائی کے مہینے میں دوبارہ پولیو مہم کے آغاز سے بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اسلامک ایڈوائزری گروپ نے کورونا وبا کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی کامیاب مہمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے معماروں کو معذوری سے بچانے کیلئے کامیاب مہمات قابل تحسین ہیں۔

سربراہ انٹرنیشنل اسلامک فقہہ اکیڈمی ڈاکٹر صالح بن عبداللہ نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود بچوں کی صحت کا خیال رکھنا قابل تعریف امر ہے۔ امید ہے کہ صحت کے متعلق آگاہی تمام مسلمان ممالک کی ترجیح ہوگی جس سے ہم ویکسین سے بچاؤ کی بیماریوں سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد مندھیری نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہم پاکستان اور افغانستان سے پولیو کے موذی مرض کے خاتمے کا اعادہ کرتے ہیں۔ کورونا وبا سے ہمیں یہ پیغام ملا ہے کہ ہم انسانیت کی بہتری کیلئے متحد ہو کر تمام بیماریوں کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششیں کریں تاکہ ان بیماریوں کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا جاسکے۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

 مذید معلومات کے لیے رابطہ کریں 

ذوالفقار علی باباخیل

سینئر میڈیا منیجر پاکستان پولیو پروگرام

03459165937