پولیو کے خاتمے کیلئے پاکستان اور افغانستان کا متحدہ کوششوں کا عہد

پولیو کے خاتمے کیلئے پاکستان اور افغانستان کا متحدہ کوششوں کا عہد

Share

اسلام آباد (15 دسمبر 2020) پاکستان اور افغانستان 2021ء میں پولیو کے خاتمے کیلئے بھرپور مشترکہ کوششیں کریں گے اور مہمات کی کامیابی، وائرس کے مکمل خاتمے کیلئے ایک ساتھ پولیو مہمات کا انعقاد کریں گے۔ اس بات کا فیصلہ آج پاکستان اور افغانستان کے پولیو انسداد کی ٹیموں کے مابین ویڈیو کانفرنس میں کیا گیا۔ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کے انسدادِ پولیو پروگرام اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ 2021ء میں پولیو کے خاتمے کیلئے ایک ہی وقت میں دونوں ممالک میں پولیو مہمات کا انعقاد کیا جائے کیونکہ دونوں ممالک سے بڑی تعداد میں لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے، اس وجہ سےایک ہی وقت میں انسدادِ پولیو مہم کا انعقاد پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

جاری ہونے والے بیان میں کوآرڈینیٹر پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام اور ای پی آئی ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے متحد ہو کر کام کریں گے۔ تاریخی لحاظ سے اس طرح کی کوششیں ہمیشہ پولیو کیسز میں کمی کا باعث بنی ہیں۔ امید ہے کہ 2021ء میں دونوں ممالک ایک ساتھ پولیو مہمات کے انعقاد سے پولیو وائرس کے خاتمہ کا باعث بنے گا۔

اس سے پہلے ستمبر میں ہونے والے اجلاس کا جائزہ لیتے ہوئے ویڈیو کانفرنس میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک نے بڑی حد تک درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا اور وائرس کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات اٹھائے۔ اس طرح کی کوششوں سے بچوں کو پولیو کے موذی مرض سے بچانے میں مدد ملے گی، خصوصی طور پر جن بچوں کی دونوں جانب آمدورفت رہتی ہے ان کو بڑی حد تک پولیو وائرس سے بچایا جاسکے گا۔

پاکستان اور افغانستان دنیا کے دو ممالک ہیں جہاں سے پولیو کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ دونوں ممالک کے پولیو پروگرام ایک دوسرے سے باہمی تعاون سے پولیو وائرس کا خاتمہ بہتر طریقے سے کررہے ہیں۔ دونوں ممالک میں کورونا وبا کے باعث پولیو مہمات اور ویکسینیشن کا سلسلہ اگست تک تعطل کا شکار رہا اور 4 ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ مہمات کا آغاز ہوا۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

 مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں :

ذوالفقار علی باباخیل

سینئر میڈیا منیجر پاکستان پولیو پروگرام

03459165937