ء2021 , میں پولیو سے پاک پاکستان کا سفر

ء2021 , میں پولیو سے پاک پاکستان کا سفر

Share

ڈاکٹر رانا محمد صفدر

کوآرڈینیٹر قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر

 

سال 2020ء کا اختتام ہوگیا ہے جس میں صحت کے لحاظ سے دنیا بھر کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ بحیثیت قوم لازمی ہے کہ کورونا وبا کو کنٹرول کرنے میں سب اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ کورونا وبا کے خلاف لڑائی ایک ایسی جنگ ہے جس کے خلاف ہمت اور بہادری سے لڑنا ہے۔ پاکستان پولیو پروگرام نے اپنے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک موثر نظام ترتیب دیا اور دوسری جانب عوام میں آگاہی مہم بھی چلاتے رہے تاکہ عوام کورونا سے بچاؤ کیلئے حفاظتی تدابیر پر عمل کریں۔

کورونا وبا کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی کو دنیا بھر میں سراہا گیا جس کے باعث بڑی تعداد میں کیسز سامنے نہیں آئے جس طرح دنیا کے دوسرے ممالک میں بڑی تعداد میں کیسز رپورٹ ہوئے، اس موقع پر اس سوال نے بھی جنم لیا کہ اگر کورونا وبا کے خلاف کامیاب حکمت عملی اختیار کی گئی تو پھر پولیو کا خاتمہ کیوں نہیں کیا گیا۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے دو ممالک ہیں جہاں پر ابھی بھی پولیو وائرس کی تلوار بچوں کے سروں پر منڈلا رہی ہے اور پولیو کیسز سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے فوری طور پر پولیو وائرس کے خاتمے کی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کو پولیو سے پاک کیا جاسکے۔اعدادوشمار کے مطابق 2020ء کے اختتام تک 38 اضلاع سے84 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ کورونا وبا کے باوجود 2019 میں 147 کیسز کے مقابلے میں سال 2020 میں 43 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان سے سال 2019 میں 29 کیسز کے مقابلے میں 2020 میں 56 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-

2019ء میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں بری طرح متاثر ہوئیں جس کے بعد وائرس کو قابو کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر کوششیں شروع کی گئیں۔ ان گنت چیلنجز کی وجہ سے پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا تھا اس دوران سوشل میڈیا پر پولیو ویکسین کے خلاف منفی پروپیگنڈہ جاری رہا۔ اس کے علاوہ بچوں میں قوت مدافعت کی کمی، بنیادی صحت وسائل کی عدم دستیابی بھی پولیو وائرس کی بڑی وجہ رہی۔

2020ء میں موثر طور پر درپیش چیلنجوں کا جائزہ لیا گیا۔ انتظامی آپریشن نظام کو بہتر بنایا گیا تاکہ تیزی سے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔ ان انتظامی تبدیلیوں کور ائج کیا گیا اور ملک بھر سے اعداد و شمار اور معلومات کے نظام کو بہتر بنایا گیا تاکہ بہتر طور پر منصوبہ بندی کی جاسکے۔

تمام مکتبہ فکر کے ساتھ ملکر کام کرنے کو ترجیح دی گئی اور دسمبر 2019 سے وائرس کے خلاف ایک نئے جذبے اور عزم سے جدوجہد کا آغاز کیا گیا، تین مہینوں کے قلیل عرصے میں قومی سطح کی دو مہمات اور ذیلی سطح کی ایک مہم کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا،  جس کے بعد بدقسمتی سے مارچ 2020ء میں کورونا وبا کے باعث ملک بھر میں مہمات منسوخ کردی گئی تھیں۔ چار مہینے کے وقفے کے بعد جولائی 2020ء میں کورونا وبا کی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرتے ہوئے دوبارہ مہم کا آغاز کیا گیا اور کامیابی سے چھ مہمات کا انعقاد کیا گیاہے۔ ان ساری مہمات میں تمام لیڈر شپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پولیو ورکرز کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے پاک فوج کی کوششیں قابل تحسین رہیں۔

پولیو ورکرز کو کورونا وبا سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر کی باقاعدہ تربیت دی گئی اور پولیو ورکرز، بچوں اور والدین کو کورونا وبا سے بچانے کیلئے ان حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا۔

لاک ڈاؤن کے باعث ٹیکہ جات (ای پی آ ئی )کا پروگرام بھی بری طرح متاثر ہوا جس کی وجہ سے بچوں کی قوت مدافعت متاثر ہوئی تاہم بہتر حکمت عملی سے جلد ہی ٹیکہ جات پروگرام بحال کردیا گیا۔

سال 2020ء میں بہتر حکمت عملی سے بہتر مہمات کا انعقد کیا گیا جو اس سے قبل کبھی نہیں کی گئی تھیں۔ 2020ء میں کی گئی بہتر حکمت عملی کے نتائج سال 2021 میں دیکھنے کو ملیں گے۔ پولیو پروگرام درست سمت پر رواں ہے۔ بہترین ماہرین کا چناؤ کیا گیا ہے۔ ویکسین کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے تاکہ والدین اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

کورونا وبا کے باوجود 2020ء میں حاصل اہداف کی بنیاد پر 2021ء میں وائرس پر قابو پانے کیلئے سازگار حالات ہیں۔ سیاسی قیادت اور تمام مکتبہ فکر سال 2021ء میں بھی اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔ ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ ایک ہی وقت میں مہمات کے انعقاد سے بھی بڑے پیمانے پر وائرس کا تدارک ہوسکے گا۔ پاکستان پولیو پروگرام نئے سال کا آغاز اس امید کے ساتھ کررہا ہے کہ دسمبر 2021ء تک پولیو وائرس پر مکمل طور پر قابو پالیا جائے گا

فرنٹ لائن ورکرز ہمارے ہیروز ہیں جن کی بہترین کوششوں سے 2020  میں بہتر نتائج سامنے آئے، والدین کا تعاون بھی سال 2020 میں مثالی رہا، جنھوں نے اپنے دروازے پولیو ورکرز کے لئے کھولے اوراپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائے۔ امید ہے والدین اور تمام مکتبہ فکر پولیو کے خلاف جنگ میں ہمارا بھر پور ساتھ جاری رکھیں گے تاکہ دنیا کو پولیو سے  پاک بنا یا جاسکے۔