جاپان پاکستان کو پولیو ویکسین کی خریداری کے لیے 4.57 ملین ڈالر کی گرانٹ دے رہا ہے

جاپان پاکستان کو پولیو ویکسین کی خریداری کے لیے 4.57 ملین ڈالر کی گرانٹ دے رہا ہے

Share

اسلام آباد (27جنوری 2021) حکومت جاپان پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لئے 4.57 ملین ڈالر کی امداد دے رہا ہے، مذکورہ گرانٹ سے 23.66 ملین ویکسین ڈوز کی خریداری کی جائے گی۔ اس گرانٹ کی مدد سے 2021 میں ہونے والی انسداد پولیو مہمات میں 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو ویکسین کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ اس حوالے سےحکومتِ جاپان، یونیسیف اور جاپان انٹرنیشنل کارپوریشن ایجنسی (جائیکا) کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔

 

جاری ہونے والے بیان میں وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ ملک سے پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے حتیٰ کہ حکومت کورونا کی عالمی وبا جیسے سخت حالات میں بھی انسدادِ پولیو مہمات کا کامیابی سے انعقاد کر رہی ہے۔ حکومتِ پاکستان، جاپانی حکومت اورعوام کا پاکستان کے ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی کو ممکن بنانے کیلئے دی جانے والی اس بروقت گرانٹ کے حوالے سے شکریہ ادا کرتی ہے۔ امید ہے کہ ہم سب مل کر بہت جلد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھرکر پولیو سے پاک کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

 

پاکستان میں تعینات جاپان کے سفیر جناب میٹسوڈا کونی نوری نے کورونا وبا کے پھیلاو کے باوجود پولیو کے ہراول ورکران کی بہادری اور انتھک کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جاپان، یونیسیف کے ساتھ مشترکہ کوششوں سے پاکستان سے پولیو کے خاتمے کیلئے پاکستانی عوام کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گی۔

 

اس موقع پر جائیکا کے سربراہ شیگے کی فوروٹا نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود انسدادِ پولیو مہمات کا انعقاد حکومتِ پاکستان کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ اس گرانٹ کے ذریعے یونیسیف پولیو وائرس سےمتاثرہ علاقوں میں رہنے والے  بچوں کیلئے پولیو سے بچاؤ کی ویکسین خریدے گا۔ اگرچہ پولیو سے مکمل چھٹکارا حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے تاہم ہم سب مل کر اس ہدف کے جلد از جلد حصول کیلئے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔

 

سربراہ یونیسیف ایدہ گرما نے حکومتِ پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کورونا وبا کے باعث مارچ سے جولائی تک 39 ملین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں دیئے جاسکے جس سے بچوں کی قوت مدافعت میں کمی آئی۔ تاہم پولیو پروگرام کی جدوجہد سے جولائی کے بعد دوبارہ انسدادِ پولیو مہمات کا انعقاد ممکن ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ جاپان سے ملنے والی گرانٹ سے انسدادِ پولیو مہمات میں بہتری آئے گی اور بچوں کی قوت مدافعت میں اضافے کے ذریعے پولیو کے خاتمے کے ہدف کے حصول میں آسانی آئے گی۔

 

پاکستان کو موجودہ وقت میں پولیو کے خاتمے کے سلسلے میں بیشتر چیلنجز کاسامنا ہے۔19 جنوری 2021 تک کے اعدادو شمار کے مطابق ملک میں پولیو کے 84 کیسز سامنے آئے جن میں بلوچستان سے 26، خیبرپختونخوا سے 22 ، سندھ سے 22، اور پنجاب سے 14 کیسز رپورٹ ہوئے۔ کورونا وبا کے باعث مارچ سے جولائی 2020ء کے وسط تک ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہمات کا انعقاد نہیں ہوسکا تھا تاہم جولائی کے وسط کے بعد ملک بھر دوبارہ سے پولیو مہمات کا آغاز کر دیا گیا۔

 

حکومتِ جاپان  1996 سے اب تک پولیو کے خاتمے کیلئے پاکستان پولیو پروگرام کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ اس دوران حکومتِ جاپان، یونیسیف کے ذریعے پاکستان کو 226.37 ملین ڈالر کی گرانٹ اور قرضہ جات کے ذریعے پولیو پروگرام  کیلئے امداد فراہم کر چکا ہے۔

 

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

===============

For further information, please contact:

  • Sajid Hussain Shah, Public Relations Officer MoNHRS&C, 03006305306,

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

  • Mr. Zulfiqar Babakhel, Media Manager, NEOC, 03459165937,

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

  • Qaisar Humayun, Economic Advisor, Embassy of Japan, 0300 9808876,

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

  • Zubair Muhammad (Public Relations), JICA Pakistan Office, +92 51 924-4500,

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.