رواں سال کی دوسری قومی انسدادِ پولیو مہم اختتام پذیر ملک بھر میں 43 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے

رواں سال کی دوسری قومی انسدادِ پولیو مہم اختتام پذیر ملک بھر میں 43 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے

Share

پریس ریلیز

اسلام آباد (یکم جون 2022ء) رواں سال کی دوسری قومی انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کے 43 ملین سے زائد بچوں کو پولیو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی قطرے پلائے گئے۔ ملک بھر میں 23 مئی سے 5 روزہ مہم کا انعقاد کیا گیا تھا۔ مہم بیک وقت افغانستان کے ساتھ منعقد کی گئی تھی۔ دونوں ممالک میں ایک ہی وقت میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

مہم کے دوران 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد تربیت یافتہ پولیو ورکرز نے گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔ اس دوران بچوں کی قوت مدافعت میں اضافے کے لیے وٹامن اے کی اضافی خوراک بھی دی گئی۔

کوآرڈینیٹر قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ نے مہم میں اہداف کے حصول پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے تاہم مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے انتھک کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کے لیے ہر مہم میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانا انتہائی ضروری ہیں‘‘۔ جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد پروگرام نے درپیش چیلنجز بشمول ویکسین سے متعلق خدشات کے خاتمے، لوگوں سے رابطے و دیگر مسائل کے حل کے لیے کوششیں مزید تیز کردی ہیں۔

شمالی وزیرستان میں 15 ماہ کے وقفے کے بعد 6 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پروگرام وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات بروئے کار لا رہا ہے اور اس کے لیے مخصوص علاقوں پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ آمدورفت کے دوران بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

مذکورہ مہم کا آغاز وزیراعظم شہباز شریف نے پولیو خاتمے کے حکومتی عزم کے ساتھ کیا تھا۔

مہم میں صحت تحفظ ہیلپ لائن 1166 اور24/7واٹس ایپ ہیلپ لائن 03467776546 پر والدین کی بھرپور رہنمائی کی گئی اور پولیو ویکسین پینے سے محروم رہ جانے والے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ ہر مہم میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے ان کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور زندگی بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

 مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں:

ذوالفقار علی باباخیل

سینئر میڈیا منیجر پاکستان پولیو پروگرام

03459165937