سعید نواز، پولیو زدہ، پشاور، خیبر پختون خواہ

سعید نواز، پولیو زدہ، پشاور، خیبر پختون خواہ

Share

 

"میں پشاور یونیورسٹی میں اپنے ایم بی اے کے آخری سال میں ہوں۔ میں اس وقت پولیو وائرس کا شکار ہوا تھا جب میری عمر دو سال تھی۔ یہ احساس اتنا خوفناک ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی اور بچہ اس عذاب سے گزرے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میرے باپ نے ہار نہ مانی اور مجھے کئی ڈاکٹروں کے پاس لے کر گئے۔ میں اب چل سکتا ہوں لیکن صرف اپنی مصنوعی ٹانگ کی مدد سے۔ پولیو کے ساتھ زندگی گزارنے سے میرا بچپن متاثر ہوا ہے۔ میں کرکٹ کھیلنا پسند کرتا ہوں لیکن میں اپنی معذوری کی وجہ سے دوڑ نہیں سکتا۔ میں صرف ایک وکٹ کیپر کی حیثیت سے کھیل سکتا ہوں، جو ایک ایسا کھلاڑی ہوتا ہے جسے دوڑنے کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی۔ اسی طرح ایسے کاموں کی ایک فہرست موجود ہے جو میں انجام نہیں دے سکتا۔ چنانچہ میں دعا کرتا ہوں کہ پولیو کا پاکستان سے خاتمہ ہو جائے تاکہ کسی بچے کو یہ تکلیف نہ اٹھانی پڑے جو مجھے اٹھانی پڑی ہے اور اٹھاتا رہوں گا۔"